
Sihr-Imran
دعا ِ خاص
نرمی و سختی سے پیش آنا
بے شک اسلام میں نرمی سے پیش آنے کی بہت تاکید ہے
اور یہ ایک اچھا اور افضل عمل ہے
لیکن ایسے بھی مقامات ہیں جہاں سختی واجب
اور نرمی اللہ کی ناراضگی کا باعث بن جاتی ہے
اکثر لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ ہمیشہ نرمی سے پیش آنا چاہیے
اسلام یہ سکھاتا ہے کہ
جس جگہ نرمی کی ضرورت ہو وہاں نرمی کرو
اور جس جگہ سختی کی ضرورت ہو وہاں سختی کرو
جب نرمی کی حجت تمام ہو چکی ہو
اور برائی ختم نہ ہو رہی ہو
اس صورت میں اگر
سختی برائی کو ختم یا اس میں کمی کرسکے
تو ضروری ہے کہ
سختی سے کام لیا جائے
سختی کرتے وقت اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ
اس سختی سے اللہ راضی ہوگا ورنہ یہ سختی ابلیسی ہوگی
جتنی سختی ضروری ہے اس سے زیادہ سختی جائز نہیں
سختی و غصے کی دو اقسام ہیں
:ایک وہ جو
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کو راضی کرتی ہے
:دوسری وہ جو
ہمارے نفس اور شیاطین کو راضی کرتا ہے
شریعت میں جتنی بھی سزایں ہیں وہ سختی کے ساتھ ہیں
قرآن حکیم میں سخت آیا ت بھی ہیں اور
انبیاءؑ کی سختی و غصہ کا بھی ذکر ہے
جیسے حضرت موسٰیؑ کے غصہ کو بیان کیا
جب انہوں نے اپنی امت کو بت کی پوجا کرتے دیکھا
اورغصہ میں حضرت ہاورن ؑکے بال پکڑے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی کئی مقامات
پر غصہ اور سختی دکھائی ہے
جس میں لوگوں کے گھر کو آگ لگا دینا جیسی بات بھی بیان کی
لوگوں کی نافرمانی پر خطبہ جمعہ میں نبی اکرم صلی اللہ ✺
علیہ و آلہ وسلم کا لہجہ غصے میں بدل گیا ان کی آنکھیں
سرخ ہوگئیں آواز بلند ہوگئی اور غصہ بڑھ گیا
ا مام علیؑ کے نہج البلاغہ میں کئی خطبات ہیں جن ✺
میں بہت سختی ہے
بی بی فاطمہؑ اور بی بی زینبؑ کے خطبات میں خاص سختی ہے✺
امام حسینؑ کا کربلا کے میدان کا خطبہ بھی سخت تھا✺
جو یزیدی فوج کو مخاطب کر کے دیا تھا
ہمارا ہر روز کثرت سے دشمنِ اہل بیتؑ پر لعنت و ✺
بیزاری سختی ہی ہے
التماسِ دعا : عمران حیدر