
Sihr-Imran
دعا ِ خاص
اخلاق، خوش اخلاق اور بداخلاق
اخلاق : لغت کے اعتبار سے خلق کی جمع ہے
جس کے معنی ہیں :طبیعت ،مروت،عادت، روش، شیوہ، سلوک،
یعنی طور طریقہ اور رفتار و گفتار کو اخلاق کہتے
خلق: اگر ''لفظ خ'' کے اوپر زبر پڑھیں یعنی خَلق پڑھیں تو اس کے معنی ہیں ظاہری شکل وصورت، انسان کے بدن کی صفات
اور اگر ''خ'' پر پیش پڑھیں یعنی '' خُلق '' پڑھیں تو باطنی اور داخلی ونفسانی شکل وصورت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، نفسانی کنٹرول' Control 'کے ذریعہ بہترین کام انجام دینے کو خُلق کہا جاتا ہے
مثلاََ اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں انسان خُلق وخَلق دونوں اعتبار سے نیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ظاہری صورت بھی اچھی ہے اور باطنی صورت بھی، جس طرح انسانوں کی ظاہری شکل وصورت مختلف ہوتی ہے اسی طرح باطنی شکل وصورت میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے
اخلاق انسان کی ان باطنی صفات کو کہا جاتا ہے جو اس کی عادت میں تبدیل ہوگئی ہیں۔
یہ لفظ اچھی اور نیک صفات جیسے جوانمردی، اور دلیری کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور
بری صفات جیسے پستی اور بزدلی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے
جب کبھی یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کا اخلاق بہت بہتر ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انسان ، نفسانی اعتبار سے صفات حسنہ(بہتر صفات) کا مالک ہے۔
اخلاق کو اچھے اور برے اخلاق، فردی اور اجتماعی اخلاق میں تقسیم کیا جاتا ہے
معاشرتی اور اجتماعی اخلاق جیسے تواضع اور ایثار
حسن اَخلاق : عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ اچھے اَفعال ادا کرنا
بداَخلاق : عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ برے اَفعال ادا کرنا
انسان اسی وقت حسن خلق سے موصوف ہوگا جب یہ اس کے نفس میں راسخ ہوگا
اور بغیر دیکھے بھالے آسانی کے ساتھ اس سے افعال صادر ہوں
لیکن اگر تکلف، مشقت اور غوروفکر کی وجہ سے افعال سرزد ہوں، تو اسے حسن خلق نہیں کہتے۔
مثلاً ایک آدمی کو کسی حاجت کی وجہ سے مجبوراً مال خرچ کرنا پڑا یا غصے کے وقت بڑی مشقت کرکے اسے کنٹرول کیا تو اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ بلحاظِ خلق وہ بڑا سخی اور بردبار ہے۔
ظاہری خلقت کو بدلنا ممکن نہیں لیکن اخلاق کو بدلنا ممکن ہے
اسی لیے دین و دعوت، امر بالمعروف، نہی عن المنکر کی اخلاقی قدر ہے
اگر عمدہ اخلاق کمزور ہے تو اسے قوی بنانے کے لیے انسان کو ریاضت کرنا پڑے گی۔
علم اخلاق یا اخلاق اسلامی
وہ علم ہے جو انسان کو پہچان کراتا ہےکہ کون سا کام اچھا ہے کون سا کام برا ہے
اخلاقی اقدار جس پر قرآن میں تاکید ہوئی ہے مندرجہ ذیل ہیں:
عدل
صبر
مہربانی
والدین سے نیک سلوک
فقیر اور یتیموں پر انفاق
وعدے پر پابند
امانت کو ادا کرنا
معاملات کو درست انجام دینا
امام صادقؑ نے مکارم اخلاق کو یوں بیان کیا ہے:
جس نے تم پر ظلم کیا ہے اسے معاف کرنا،
جس نے تجھ سے رابطہ قطع کیا ہے اس سے رابطہ برقرار کرنا،
جس نے تجھے محروم رکھا اسے عطا کرنا،
اور حق بات کہنا اگرچہ وہ آپ کے ضرر میں ہو۔
آپ ایک اور حدیث میں
مشکلات میں صبر و استقامت،
سچائی
امانتداری
مہمان نوازی
فقیروں کو کھلانا
نیکی کا بدلہ نیکی سے دینا
ہمسایوں کا احترام
اور ان کے حقوق کی رعایت
دوستوں کے حقوق اور احترام کا خیال رکھنے کو مکارم الاخلاق قرار دیا ہے۔
اور حیا کو ان سب میں سب سے اہم قرار دیا ہے۔
حسن اَخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس میں
کئی نیک اعمال شامل ہیں چند اعمال یہ ہیں
معافی کو اختیار کرنا
بھلائی کا حکم دینا
برائی سے منع کرنا،جاہلوں سے اعراض کرنا
قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا
محروم کرنے والے کو عطا کرنا
ظلم کرنے والے کو معاف کردینا
خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا
کسی کو تکلیف نہ دینا
نرم مزاجی
بردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پالینا
غصہ پی جانا
عفو ودرگزر سے کام لینا
لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا
مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا
مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا
لوگوں میں صلح کروانا
حقوق العباد کی ادائیگی کرنا
مظلوم کی مدد کرنا
ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا
دعائے مغفرت کرنا
کسی کی پریشانی دور کرنا
کمزوروں کی کفالت کرنا
لاوارث بچوں کی تربیت کرنا
چھوٹوں پر شفقت کرنا
بڑوں کا احترام کرنا
علماء کا ادب کرنا
بھوکے کو کھانا کھلانا
مستحق کو لباس پہنانا
پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا
مشقتوں کو برداشت کرنا
حرام سے بچنا
حلال حاصل کرنا
اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی کرنا۔
وغیرہ وغیرہ
قیامت کے روز ایماندار کے ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہوگی، اچھے اخلاق والا اپنے اخلاق کی وجہ سے روزے دار اور نمازی کے درجے کو پہنچ جاتا ہے
پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کا اصلی ہدف انسانوں کے اخلاق کی اصلاح بیان کیا ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺخدا وند منان سے دعا فرماتے ہیں:
''اللّھم حَسِّن خُلقی کما حَسّنت خَلقی
یعنی پالنے والے! میرے خُلق کو بھی اسی طرح بہتر قرار دے جس طرح میرے خَلق کو بہتر بنایا ہے(یعنی جس طرح میری خلقت، نیک طینت ہے اسی طرح میرے اخلاق کو بھی اخلاق حسنہ قرار دے)